شوکت ترین یا عشرت حسین : وزارت خزانہ کون سنبھالے گا؟

Written by:

اسد عمر کے وزارت خزانہ چھوڑنے کے اعلان کے بعد شوکت ترین  یا سابق گور نر اسٹیٹ بنک ڈاکٹر عشرت حسین میں سے کسی ایک کو مشیر خزانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکت ترین کی  کابینہ میں شمولیت نیب کیسز سے کلیئرنس پر مشروط ہے ۔ اگر شوکت ترین کو نیب نے کلیئر نہ کیا تو سابق گورنر اسٹیٹ بنک ڈاکٹر عشرت حسین اور ڈاکٹر حفیظ شیخ سمیت دیگر ناموں پر غور کیا جائیگا ۔الیکشن کے بعد شوکت ترین کی عمران خان سے متعدد ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔

شوکت ترین 2009 سے 2010 تک پاکستان کے  وزیر خزانہ رہے ہیں۔

ڈاکٹرعشرت حسین ادارہ اصلاحات کے شعبے میں وزیراعظم کے مشیر ہیں۔ ڈاکٹرعشرت حسین نے ایف بی آر میں ہنگامی اقدامات کی تجویز بھی موجودہ حکومت کو دی  ہے۔  ڈاکٹرعشرت حسین آئی ایم ایف کے پاس جانا بھی ضروری سمجھتے تھے ۔

ڈاکٹرعشرت حسین گزشتہ روزوزیراعظم کی زیرصدارت اہم اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔

تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں  کی جانب سے شوکت ترین کی مخالفت دیکھنے میں آرہی ہے۔

وزیر توانائی عمر ایوب کو عارضی طور پر وزیر خزانہ کا چارج دیئے جانے کا امکان ہے۔ وزیر خزانہ یا مشیر خزانہ کون ہوگا حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں  مزید تبدیلیاں بھی جلد متوقع ہیں۔ غلام سرور خان. شہریارآفریدی  اور اعجاز شاہ کی وزارتیں تبدیل کی جائیں گی۔صاحبزادہ محبوب سلطان، علی امین گنڈہ پور اور فیصل واوڈا کی وزارتیں بھی خطرے میں ہیں۔

ذرائع کے مطابق متعدد وزرا نے وزارتیں بچانے اور کابینہ میں رہنے کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔

واضح رہے کہ اسد عمر نے آج 2بج کر 9منٹ پر اعلان کیا کہ وہ وزارت خزانہ چھوڑنے اور کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہ لینے کا اعلان کیا۔

اسد عمر نے یہ یہ اعلان سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کیا۔ اسد عمر نے لکھا کہ وزیر اعظم کی خواہش ہے میں وزارت خزانہ چھوڑ کر وزارت توانائی لے لوں۔

سینئر تجزیہ کار محمد مالک نے کہا کہ اسد عمر نے غلط فیصلہ نہیں کیا لیکن انہوں نے فیصلہ دیر سے کیا۔ شاید اسد عمر نے زمینی حقائق کو درست نہیں سمجھا اور وہ سیاست کو اس طرح نہیں سمجھ سکے جس طرح سیاست کو سمجھ رہے تھے

Source:

https://www.humnews.pk/latest/155581/
۔

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started