
دہشتگروں کو ہلاک کیا، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں ملک میں دہشتگردوں کا کوئی منظم نیٹ ورک موجود نہیں۔
راولپنڈی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نائن الیون کے بعد عالمی طاقتوں نے اپنی مرضی کی پالیسیوں کےلیے پاکستان کو مجبور کیا، جبکہ دہشتگردی کےخلاف جنگ میں 81 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید یا زخمی ہوئے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 70 ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ ہوتی ہے، نائن الیون سے آج تک پاکستان نے دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں کیں، ہم نے 1 ہزار 237 کائینیٹک آپریشن کیے جبکہ انٹیلیجنس بنیادوں پر 100 آپرین کیے گئے۔ پاکستان نے 300 بلین ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بتایا تھا پاکستان کسی طور پر پلواما حملے میں ملوث نہیں، لیکن بھارت کی جانب سے ان گنت جھوٹ بولے گئے اور بولے جا رہے۔ ہم نے بھارت کی لفظی اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دیا کیونکہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ ہم نے جھوٹ کا جواب دینے کے بجائے صرف حقیقت بتائی۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا بھارت نے کہا کہ پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرایا لیکن امریکا نے جہازوں کی گنتی پوری کی جو کہ پورے تھے۔ پاکستان نے 2 طیارے مار گرائے جن کا ملبہ دنیا نے دیکھا، بھارت نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرانے کا جھوٹا دعویٰ کیا جو کہ جھوٹا ثابت ہوا، جبکہ ایف 16 کے ڈر سے اپنا ایم 17 ہی گرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اسٹرائیک سے کتنے بھارتی فوجی مارے گئے یہ بھی بھارت دنیا کو بتائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ 1971 نہیں ہے اور نہ ہی یہ وہ فوج، نہ اسطرح کے حالات ہیں، 1971 میں اگر میڈیا ہوتا تو بھارتی سازش کا پول کھل جاتا اور مشرقی پاکستان کبھی علیحدہ نہیں ہوتا۔ ہمیں جب چاہیں آز مالیں کیونکہ پاک فوج ملک کا بھرپور دفاع کرے گی، ملکی دفاع کی بات ہو تو ہر قسم کی صلاحیت کا استعمال ہوتا ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا آزادی ملنے کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ بھی آیا، کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے اور پاکستانی ہر وقت کشمیریوں کےلیے تیار رہتے ہیں، افغان وار کے بعد پاکستان میں جہاد کی فضا قائم ہوئی۔
بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم آپ کے رویے میں تبدیلی لے کر آگئے ہیں لیکن آپ ہم سے رویے میں جو تبدیلی چاہتے ہیں وہ ممکن نہیں
Leave a comment