
کسی کی دھونس دھمکی میں نہیں آئیں گے۔ بد عنوانوں نے لوٹا ہوا پیسہ واپس نہیں کیا تو قانون کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔
ملتان میں متاثرین کو چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے واضح کردیا کہ کوئی حکومت میں ہو یا نہ ہو، ہمیں اس کوئی غرض نہیں۔ اگر کوئی بدعنوانی کرے گا اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں گے۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ کسی کی دھونس دھمکی میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آئین اور قانون کے مطابق چلیں گے لیکن بدعنوان کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کے خلاف جارحانہ اور مذمومم مہم چل رہی ہے۔ جاپانی کہاوت ہے کہ اتنا جھوٹ بولے کہ سچ لگے۔ پاکستان میں بھی نیب کی کارروائیوں کے باعث معیشت خراب ہونے سے متعلق جھوٹ بولا جاتا ہے۔ ہماری واحد خواہش کرپشن فری پاکستان ہے۔۔ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ چل سکتی ہے لیکن نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ایماندار بیورو کریسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ کے خلاف کیس نہیں بنتا تو کوئی ہم پر دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ اگر آپ بد عنوانی کریں گے تو نیب ضرور کارروائی کرے گی۔ بعض علاقوں میں بیورو کریٹس میں گروپ بندی ہے اور بعض علاقوں میں بیوروکریٹس کی کمی ہے۔ اگر بیوروکریسی کام نہ کرے تو اس میں نیب کا کیا قصور ہے؟
چیئرمین نیب نے کہا کہ گزارش ہے تنقید ضرور کریں لیکن تعمیری تنقید ہونی چاہیے۔ نیب کو کالا قانون کہا جاتا ہے، لیکن قانون میں کیا خرابی ہے یہ کوئی نہیں بتاتا۔ ہر حکومت کو موقع ملا، نیب کو ختم کیوں نہیں کیا؟ جب دوسرے پر قانون کا اطلاق ہو تو اچھا اور خود پر ہو تو کالا قانون بن جاتا ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ گزشتہ ادوار کے وزرائے اعظم اور دیگر نے جو کیا وہ ہم بھگت رہے ہیں۔ بندعنوانی نہ ہوتی تو پاکستان کو قرض نہ لینا پڑتا۔ اربوں ڈالرز قرضہ لیا گیا لیکن ملک میں کہیں پیسہ لگا نظر نہیں آتا۔ البتہ دبئی میں بلند و بالا عمارتیں اور پاناما کیس ضرور سامنے آتا ہے۔ ہمیں سیاست کوئی غرض نہیں، نیب قانون کے مطابق اپنا کام جاری رکھے گا۔ اگر کسی نے غریب کا مال لوٹا ہے تو پیسہ واپس کردے ورنہ قانون حرکت میں آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے ڈکیتی کی ہے تو خدا کے نظام میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ بچ جائیں گے تو یہ آپکی خوش فہمی ہے۔ غیرقانونی سوسائیٹیز عوام کی رقوم واپس کردیں۔ ہوسکتا ہے ہم سے بھی کہیں غلطی ہوئی ہو۔
چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ پلی بارگین کے قانون میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر کسی غریب کے 100 روپے لوٹے گئے اور اسے 90 روپے واپس مل گئے تو اس میں کیا برا ہے۔ پاکستان کے ہر متاثرہ شخص کو کہتا ہوں، اسے اس کا حق ضرور ملے گا
Leave a comment