سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔ شاہ رخ جتوئی کے وکیل عمران جتوئی کا بیان

کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 مئی 2019ء) : شاہ زیب قتل کیس میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف مجرم شاہ رخ جتوئی کے وکیل نےسپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مجرم شاہ رخ جتوئی کے وکیل عمران جتوئی نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ہم سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔خیال رہے کہ آج سندھ ہائی کورٹ نے شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی ہے۔ شاہ زیب قتل کیس میں مجرمان شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نظر اکبر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے شاہ رخ جتوئی اور دیگر مجرمان کی اپیلیں اور صلح نامہ کی درخواست مسترد کر دیں۔مدعی مقدمہ کے وکیل نےمؤقف اختیارکیا کہ مدعی مقدمہ اور مقتول کےوالد کا انتقال ہوچکا ہے۔ ان کے لواحقین میں بیوہ اور دو بیٹیاں ہیں، تینوں خواتین بیرون ملک ہیں، عدالت نہیں آنا چاہتیں، عدالتی نمائندہ اسکائپ کے ذریعے تصدیق کرسکتا ہے۔ عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جبکہ دیگر دو ملزمان سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔یاد رہے کچھ عرصہ قبل سندھ ہائیکورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت تمام گرفتار افراد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر سول سوسائٹی نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جس پر سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 3 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا اور ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے ساتھ انہیں دوبارہ حراست میں لینے کا حکم دیا تھا۔یاد رہے کہ شاہ زیب قتل کیس میں مجرم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو انسداد دہشتگردی عدالت نے سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ مقتول شاہ زیب خان کی بہن کے ساتھ شاہ رخ جتوئی اور اور اس کے دوست غلام مرتضیٰ لاشاری نے بدسلوکی کی جس پر شاہ زیب مشتعل ہو کر ملزمان سے اُلجھ پڑا تھا۔ اس موقع پر تو معاملے کو رفع دفع کردیا گیا تاہم شاہ رخ جتوئی نے دوستوں کے ساتھ شاہ زیب کی گاڑی پر فائرنگ کر کے اسے قتل کردیا تھا۔واقعہ کے بعد شاہ رخ دبئی فرار ہوگیا تھا ۔ جس کے باعث کیس کی تفتیش سست روی کا شکار رہی، لیکن کچھ عرصہ کے بعد بالآخرمجرم کو گرفتار کیا گیا اور مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں چلا۔ 7 جون 2013ء کو قتل کا جرم ثابت ہونے پر شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت جبکہ سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ درخواستگزاروں کے وکلا نے سندھ ہائیکورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ صلح نامہ کی بنیاد پر تمام مجرمان کو بری کر دیا جائے۔ لیکن سندھ ہائیکورٹ نے مجرموں کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے دو مجرموں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جبکہ باقی دو مجرموں کی عمر قید کو برقرار رکھا۔
Leave a comment