حکومت نے سابق دور حکومت کے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے لاہور سمیت پنجاب بھر کے متعدد منصوبوں کے فنڈز اورنج ٹرین کو منتقل کردیئے

لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 مئی 2019ء) : تبدیلی سرکار نے سابق دور حکومت کا اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ مکمل کر نے کے لیے 100 سے زائد عوامی منصوبوں کو قربان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سابق دور حکومت کے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیےلاہور سمیت پنجاب بھر کے متعدد منصوبوں کے فنڈز اورنج ٹرین کو منتقل کردیئے ہیں ۔حال ہی میں موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق ضلعی ترقیاتی پروگرام سے 26 کروڑ 81 لاکھ روپے اورنج لائن ٹرین کو منتقل کر دئے گئے۔ ضلعی ترقیاتی پروگرام سے پنجاب بھر میں سیوریج اور گلیوں کی پختگی کی سو سے زائد اسکیمیں بند کرکے نئے مالی سال میں رکھی جائیں گی۔ لاہوریوں کے لیے شہر میں تین نئے جدید بس ٹرمینل کی تعمیر کے لیے مختص دس کروڑکے فنڈز ٹرین کو منتقل کئے گئے۔ناکارہ گاڑیوں کے معائنے کے لیے مختص کردہ 75 لاکھ روپے ، ملتان میٹروبس کی ادائیگیوں کے لیے مختص 5 کروڑ روپے ، تھری ویلرز گاڑیوں کے معیار پر کنسلٹینسی کی مد میں مختص 2 کروڑ 90 لاکھ روپے ، راولپنڈی میں وہیکل انسپکیشن سنٹرکی تعمیر کے لیے مختص 18 کروڑ روپے اورنج لائن ٹرین کو منتقل کر دئے گئے۔ خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی حکومت میں گذشتہ ماہ پہلی مرتبہ اورنج لائن ٹرین کا ٹیسٹ رن کیا گیا تھا۔جس کے بعد اُمید کی گئی کہ جلد ہی اورنج لائن ٹرین منصوبے کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کی لاگت 2015ء میں ایک کھرب 60 ارب 60 کروڑ روپے تھی، حکومت کو دو سو بار دن کا جُرمانہ چودہ ارب 31 کروڑ روپے ادا کرنا ہو گا۔ڈالر بڑھنے سے 2019ء میں منصوبے کی لاگت میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ یاد رہے کہ اونج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ گذشتہ دور حکومت کے بڑے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ تھا ۔سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے اورنج لائن ٹرین منصوبہ 2015ء میں شروع کیا گیا جسے دو سال کی مدت میں مکمل ہونا تھا۔ میگا پراجیکٹ ”اورنج لائن میٹرو ٹرین” کے منصوبہ تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے جسے نہ تو نگلا جا سکتا ہے اور نہ ہی اُگلا جا سکتا ہے۔ اس میگا پراجیٹ کی تکمیل کے لیے ابھی مزید 44 ارب 41 کروڑ 34 لاکھ 86 ہزار روپے درکار ہیں ۔گذشتہ برس محکمہ خزانہ پنجاب نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور صوبائی وزیر خزانہ کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ جیسے جیسے تاخیر کا شکار ہوتا جا رہا ہے ویسے ہی اس کی لاگت میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی ایک وجہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی بھی ہے ۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مکمل کرنے کے لیے جہاں مزید 43 ارب روپے درکار ہیں وہیں اس کی زد میں آنے والی تاریخی عمارات پربھی 1 کروڑ 34 لاکھ 86 ہزار روپے مزید خرچ ہوں گے
Source:۔
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2019-05-16/news-1932284.html
Leave a comment