
نیوزی لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر حملے میں ملوث برینٹن ٹیرنٹ پر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دہشت گردی کی فرد جرم عائد کردی۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ‘ اے ایف پی ‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے اس حوالے سے جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ‘ اس فرد جرم میں الزام عائد کیا جائے گا کہ کرائسٹ چرچ میں دہشت گردانہ کارروائی کی گئی تھی’۔
خیال رہے کہ دہشت گردی کی فردِ جرم کے علاوہ برینٹن ٹیرنٹ کو قتل کی 51 اور اقدام قتل کی 40 فرد جرم کا سامنا بھی ہے۔
تاہم اب تک برینٹن ٹیرنٹ پر عائد کیے گئے الزامات اتنے وسیع نہیں تھے کیونکہ نیوزی لینڈ کا ٹیرارزم سپریشن ایکٹ 2002 میں متعارف کروایا گیا تھا جس پر عدالتوں میں اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔
پولیس نے کہا کہ حملے کے 2 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد دہشت گردی کا الزام عائد کرنے کا فیصلہ پراسیکیوٹرز اور حکومتی قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد لیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے اضافی الزامات سے آگاہ کرنے کے لیے حملے کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘ پولیس حملے میں متاثرہ خاندانوں اور بچ جانے والے افراد کو جذباتی اور چیلنجنگ عدالتی کارروائی کے دوران مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پُر عزم ہے
Source:’ https://www.dawnnews.tv/news/1103745/ ۔
Leave a comment