مخنثوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن کامی سد پر ریپ کا الزام

Written by:

کامی سد نے ان تمام الزامات کو بےبنیاد قرار دے دیا —فوٹو/ اسکرین شاٹ

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن کامی سد پر سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے ریپ کرنے اور ڈرانے دھمکانے کا الزام لگادیا۔

کامی سد اور ان کے ساتھیوں پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ثنا نامی خواجہ سرا کو 2015 میں ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ معاملہ دراصل اس وقت سامنے آیا جب فیس بک پر مناحل بلوچ نامی ایک خاتون نے کامی سد پر انہیں ڈرانے دھمکانے کا الزام عائد کیا۔

مناحل کا کہنا تھا کہ انہوں نے چند روز قبل کانز فیسٹیول سے متعلق ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ‘ریپ کرنے والوں کو سپورٹ نہ کریں چاہیں وہ کانز 2019 کا حصہ بھی بن گئے ہوں، ریپ کرنے والے کا کوئی ایک جنس نہیں ہوتا’۔

مناحل کے مطابق اس پوسٹ میں انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، تاہم کامی سد نے انہیں ذاتی پیغامات بھیج کر ڈرانے کی کوشش کی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی پوسٹ کا کامی سد سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کامی سد اس سے پہلے بھی لوگوں کو ایسے ہی ڈرا دھمکا چکی ہیں۔

اپنی پوسٹ میں مناحل نے کامی سے کی گئی بات چیت کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔

بعدازاں مناحل نے ایک اور ای میل کے اسکرین شاٹس اپنی نئی پوسٹ میں شیئر کیے، یہ ای میل انہیںشمائلہ بھٹی کے نام سے مشہور ہوئے کامیڈین محمد معیز نے بھیجی تھی، جس میں انہوں نے کامی سد پر چوں کا جنسی استحصال کرنے کا الزام لگایا۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے محمد معیز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ انہوں نے مناحل کو یہ ای میل بھیجی تھی جس میں کامی سد پر لگے ریپ کے الزامات کی تفصیل ہے۔

جبکہ محمد معیز نے فیس بک پر بھی تصدیق کی کہ انہوں نے ہی مناحل کو ای میل بھیجی تھی۔

مناحل بلوچ کی پوسٹ سامنے آنے کے بعد وومن ایکشن فورم کی ممبر اور وکیل شمائلہ حسین شہانی نے بھی کامی سد پر ریپ کرنے اور لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کا الزام لگایا۔

شمائلہ نے کامی سد پر یہ بھی الزام لگایا کہ انہوں نے ایک 14 سالہ مخنث لڑکی کا ریپ بھی کیا تھا، جس کا اب 18 یا 19 سال کی عمر میں انتقال ہوچکا ہے۔

محمد سلمان خان نامی سماجی کارکن اور صحاف نے بھی کامی سد پر ثنا نامی خواجہ سرا کا ریپ کرنے کا الزام لگایا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ وومن ایکشن فورم نے 2018 میں اس معاملے سے متعلق ایک میٹینگ بھی کی تھی جہاں ثنا موجود تھیں، اس دوران انہوں نے اپنی کہانی بھی سب کو سنائی۔

بعدازاں ایمن رضوی نامی جرنلسٹ نے بھی کامی سد سے کی اپنی بات چیت صارفین کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کچھ ماہ قبل ٹوئٹر پر یہ سوال اٹھایا تھا کہ کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ایک ایسے فرد کی فلم کی نمائش کیوں کہ جارہی ہے جس پر ریپ کا الزام لگایا گیا ہو۔

ایمن کے مطابق ان کی اس ٹویٹ کے بعد کامی سد نے انہیں ہراساں کیا جبکہ ان کے اٹھائے سوال پر انہیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش بھی کی۔

اس حوالے سے ڈان نے کامی سد سے بھی ان پر لگے الزامات کے بارے میں پوچھا، جس پر سماجی کارکن نے انہیں بےبنیاد قرار دے دیا۔

کامی سد کا کہنا تھا کہ ‘یہ گروپ میرے خلاف ہے، جس میں لوگوں کے ذاتی مفادات بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ میں کچھ نہیں کہ سکتی، اب میری کمیونیٹی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آواز اٹھائیں گے، سب ہی جانتے ہیں کہ ماضی میں کس طرح خواجہ سراہوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا گیا

Source:’ https://www.dawnnews.tv/news/1103950/ ۔

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started