
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس وقت غیر اہم اشیا کی درآمد پر 2 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے تقریباً 19 سو اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
اس کے بر عکس حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مخصوص سیکٹرز کو دیے جانے والے استثنیٰ کو ختم کرنے اور نئی مصنوعات پر ڈیوٹی لگانے کے لیے آمدنی کی منصوبہ بندی کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔
کسٹم کے ریونیو پلان اور ایف بی آر حکام کے مطابق تجویز شدہ اقدامات کو زیر غور لایا جائے گا جبکہ انہیں آئندہ چند ہفتوں میں حتمی شکل بھی دے دی جائے گی۔
اس منصوبے کے تحت آئندہ بجٹ میں قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 5 فیصد عائد کی جاسکتی ہے جس کی مدد سے ایف بی آر کی آمدنی میں ایک سو ارب روپے کا اضافہ ہوگا، جبکہ حکومت ایل این جی کی فروخت پر 12 فیصد سیلز ٹیکس پہلے ہی وصول کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات پر 3 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے پر بھی غور کیا جارہا ہے ، ایف بی آر سے امید لگائی جارہی ہے کہ اس مدد سے 40 ارب روپے سے آمدن بڑھے گی
Leave a comment