ٹوئٹر اورفیس بک پر ہزاروں ایران نواز جعلی اکائونٹس ختم کردیئے گئے

Written by:

یلی فورنیا(سنگر نیوز)فیس بک اور ٹوئٹر پر بہت سے جعلی اکاو¿نٹس ختم کر دیے گئے ہیں، جہاں سے ایران کے حق میں پیغامات شائع کیے جاتے تھے۔ ایران ہی سے چلائے جانے والے ان ’فیک اکاو¿نٹس‘ کا پتہ انٹرنیٹ سکیورٹی کمپنی ’فائر آئی‘ کی تحقیقات سے چلا تھا۔

دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک اور مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر کی طرف سے منگل اٹھائیس مئی کو رات گئے بتایا گیا کہ یہ جعلی آن لائن اکاو¿نٹس مختلف سیاسی امیدواروں اور صحافیوں کے نام پر بنائے گئے تھے، جو سوشل میڈیا پر ایک باقاعدہ ایران نواز مہم کا حصہ تھے۔

ان اکاو¿نٹس کے اصلی کے بجائے جعلی حیثیت میں امریکا کی مختلف معروف سیاسی شخصیات کے اکاو¿نٹس کے طور پر فعال ہونے کی تصدیق انٹرنیٹ سکیورٹی کمپنی ’فائر آئی‘ نے اپنے بڑی پیچیدہ چھان بین کے بعد کی تھی اور اب یہ ’فیک اکاو¿نٹس‘ ڈیلیٹ کر دیے گئے ہیں۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق فیس بک نے بتایا کہ اس کی انتظامیہ نے ایسے کل 51 اکاو¿نٹس، 36 پیجز اور سات گروپس کو ڈیلیٹ کر دیا ہے جبکہ اسی کمپنی کی ملکیت ایک ذیلی ادارے اور فوٹو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام سے بھی تین جعلی ایران نواز اکاو¿نٹ ختم کر دیے گئے ہیں۔

فیس بک کے سائبر سکیورٹی کے شعبے کے سربراہ ناتھانیئل گلائشر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ”یہ جعلی اکاو¿نٹ ایسے افراد کی طرف سے چلائے جاتے تھے، جنہوں نے عام صارفین کو اس بارے میں گمراہ کر رکھا تھا کہ وہ کون تھے اور کیا کر رہے تھے۔“ ساتھ ہی فیس بک کے بیان میں مزید کہا گیا کہ سائبر سکیورٹی تحقیقات سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ یہ اکاو¿نٹ ایران سے چلائے جا رہے تھے۔

دوسری طرف مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کر دی کہ اس نے اپنی ویب سائٹ سے 2,800 ایسے اکاو¿نٹ مئی کے اوائل میں ڈیلیٹ کر دیے، جو اصلی نہیں تھے۔ ایران سے بنائے گئے ان اکاو¿نٹس کے بارے میں ٹوئٹر کی طرف سے کی جانے والی داخلی تفتیش ابھی تک جاری ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اس بارے میں لکھا ہے کہ یہ سب جعلی فیس بک اور ٹوئٹر اکاو¿نٹس نہ صرف ایران نواز تھے بلکہ انہیں تہران حکومت کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت اور ان پر تنقید کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔

’فائر آئی‘ نے اس بارے میں اپنے ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ جعلی سوشل میڈیا اکاو¿نٹس کے اس نیٹ ورک میں جن سیاسی امیدواروں اور صحافیوں کے ناموں کا استعمال کیا گیا، تقریباً ان سب کا تعلق امریکا سے تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ 2018ءمیں امریکی کانگریس کے انتخابات کے موقع پر ان نقلی اکاو¿نٹس کو فیس بک اور ٹوئٹر پر ایران نواز اور ٹرمپ مخالف پیغامات کی اشاعت اور تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں قائم کمپنی ’فائر آئی‘ کے ایک سائبر سکیورٹی ریسرچر لی فوسٹر کے بقول، ”ہم کافی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نیٹ ورک کو ایران کے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا

Source:

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started