کراچی (: مسلم لیگ ن کے اندرونی طور پر اختلافات کی خبریں اکثر و بیشتر سامنے آتی رہتی ہیں۔ تاہم ابمسلم لیگ ن سندھ میں اختلافات کُھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ کی جانب سے حیدرآباد میں پریس کانفرنس کے دوران تنظیم نو کے اعلان کے موقع پر مخالف گروپ کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔جس کی وجہ سے پریس کانفرنس شدید بدنظمی کا شکار ہوگئی اور کارکنان آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔ اس موقع پر سابق ضلعی صدر حنیف صدیقی کو مخالف گروپ کے کارکنوں نے دھکے دیئے اور پریس کانفرنس سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ حنیف صدیقی نے الزام عائد کیا کہ پارٹی میں جن لوگوں کو آئے ہوئے چند روز ہوئے ہیں وہ پارٹی پر قابض ہوچکے ہیں اور اُنہیں عہدوں سے نوازا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن سندھ پر قوم پرست قابض ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوری نظام سے اوپر کوئی اور نظام ہے جو ملک کو کسی اور انداز میں چلانے کی کوشش کررہا ہے ، الیکشن میں دھاندلی کے باوجود ہم نےاسمبلی میں جانے اور آواز بلند کرنے کا کہا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قیادت پر کوئی بھی کرپشن کا کیس ثابت نہیں ہو سکا۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھی یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ مسلم لیگ ن قیادت کے معاملے پر بھی انتشار کا شکار ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ جب مریم نوازاور حمزہ شہباز کو مسلم لیگ ن کی قیادت سونپنے کی خبریں سامنے آئی تھیں تب بھی مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم کسی طور مریم نواز اور حمزہ شہباز کو قیادت کے روپ میں تسلیم نہیں کر سکتے۔ ایسے میں مسلم لیگ ن کے اندر گروہ بندی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں تاہم اب بھی وہی صورتحال ہے۔ مسلم لیگ ن کے کئی رہنما کسی طور مریم نواز اور حمزہ شہباز کو قیادت کے روپ میں تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، جبکہ ان رہنماؤں میں کئی اہم پارٹی رہنما بھی شامل ہیں۔
Source: https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2019-06-03/news-1952378.html
Leave a comment