کلبھوشن کیس: ایڈہاک جج کا اختلافی نوٹ میں پاکستان کا دفاع، بھارت پر تنقید

Written by:

پاکستان نے قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی نہیں دی، جسٹس تصدق حسین جیلانی کا اختلافی نوٹ — فائل فوٹو: ٹوئٹر

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی نے کلبھوشن یادیو کیس کے اپنے اختلافی نوٹ میں بھارت کے ناکافی اقدامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی نہیں کی جبکہ بھارت نے اس طریقہ کار کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کی رہائی اور اسے بھارت کے حوالے کرنے کی نئی دہلی کی درخواست مسترد کردی تھی۔

تاہم اس فیصلے کی سنوائی کرنے والے ججز پینل میں پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی نے کلبھوشن یادو سے متعلق فیصلے میں اپنا اختلافی نوٹ تحریر کردیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے کلبھوشن کے پاسپورٹ سےمتعلق برطانوی رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کردی

ان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت کو بھارت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دینی چاہیے تھی، کیونکہ بھارت نے اس طریقہ کار میں حقوق کے استعمال کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔

تصدق حسین جیلانی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان 2008 میں ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ پاکستان نے قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی نہیں دی۔

اختلافی نوٹ میں انہوں نے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس پر ویانا کنوینشن کا اطلاق ہوتا بھی ہے تب بھی پاکستان نے اس کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پہلے ہی کلبھوشن یادیو کی فوجی عدالت سے سزا پر نظر ثانی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری طریقہ کار اختیار کر چکا ہے۔

تصدق حسین جیلانی نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ عالمی عدالت نے اس فیصلے میں ظاہری طور پر ایسے وقت میں ایک خطرناک مثال قائم کردی ہے جب ریاستیں بڑھتی ہوئیں سرحد پار دہشت گرد سرگرمیوں اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نبرد آزما ہیں

https://www.dawnnews.tv/news/1107175/ ۔

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started