
وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں امن و استحکام کی صورتحال خراب ہوگی۔
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمد سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارت کا اعلان اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل (یو این ایس سی) کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا یہ غیرقانونی اقدام خطے کی امن و استحکام کی صورتحال خراب کرے گا اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کے حامل دونوں پڑوسیوں کے درمیان کے تعلقات کو مزید نقصان پہنچے گا۔
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران مہاتیر محمد نے کہا کہ ملائیشیا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی قریب سے نگرانی کررہا ہے اور وہ رابطے میں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کی سائڈ لائن پر وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے منتظر بھی ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا ہے اور اس بل پر بھارتی صدر نے دستخط بھی کردیے ہیں۔
بھارت کی جانب سے اس خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔
مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔
اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی
https://www.dawnnews.tv/news/1108277/
Leave a comment