وائٹ ہاوس نے ٹرمپ کے خلاف مواخذے میں تعاون کرنے سے انکار کردیا

Written by:

ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے  پر امریکا میں آئینی تصادم کا خطرہ  پیدا ہوگیا۔وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک میں تعاون سے انکار کر دیا۔

غیر ملکی خبرساں ادارے  کے مطابق   امریکی   صدر کے  دفتروائٹ  ہاوس  نے باقاعدہ  طور  پر صدر ٹرمپ  کے مواخذے کے لئے ہونے والی تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کردیا ہے  ۔

 ڈیمو کریٹ  جماعت کے رہنماوں نے مواخذے  کی کارروائی کو بے بنیاد اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

وائٹ ہاؤس کے وکیل پیٹ کیپولون نے اس خط میں ایوانِ نمائندگان کی سپیکر اور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی اور کانگریس کی تین کمیٹیوں کے ڈیموکریٹ سربراہان کو مخاطب کر کے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسی تحقیقات کر رہے ہیں جو ’انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف‘ ہے۔

خط میں ڈیموکریٹس پر 2016 کے انتخاب کے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے اور تحقیقات کو ’آئینی طور پر غیرقانونی اور مروجہ طریقۂ کار کی خلاف ورزی‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی عوام کے تئیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ آپ کی جانبدارانہ اور غیرآئینی تحقیقات میں کسی بھی قسم کے حالات میں شریک نہیں ہو سکتے۔‘

وائٹ ہاؤس کی جانب سے تحقیقات میں تعاون سے انکار کے بارے میں خط ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یورپی یونین کے لیے امریکی سفیر کو کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے روکے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

واضح  رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی جمع کرائی ہے جس پر باقاعدہ کارروائی کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔

جبکہ   امریکی ایوان نمائندگان کی تین رکن کمیٹی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پر تحقیقات کر رہی ہے۔

ان تحقیقات میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا صدر ٹرمپ نے اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات شروع کروانے کے لیے یوکرین کی حکومت پر امداد کو بطور دباؤ استعمال کیا۔

https://www.bolnews.com/urdu/?p=21631

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started