پاکستان کے شہر راولپنڈی کی پولیس نے بچوں سے جنسی زیادتی کر کے ان کی ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر فروخت کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سی پی او راولپنڈی فیصل رانا کے مطابق گرفتار ہونے والا شخص سہیل ایاز عرف علی بچوں سے جنسی زیادتی کر کے اُن کی ویڈیوز عالمی ڈارک ویب پر فروخت کرتا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ دورانِ تفتیش ملزم نے 30 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔
سی پی او کے بقول جنسی تشدد کا شکار ہونے والے بچوں کی عمریں ایک سال سے لے کر 17 سال کے درمیان تھیں۔
ان کے مطابق ملزم سہیل ایاز چارٹرڈ اکاؤٹنٹ ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سول سیکریٹیریٹ میں ملازم ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم ماضی میں برطانیہ ایک 14 سالہ بچے کے ریپ کے کیس میں چار سال قید کی سزا بھی کاٹ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
فیصل آباد: بچوں سے جنسی زیادتی کے پانچ ملزمان گرفتار
زینب قتل کا ایک سال: ’قصور کے بچے آج بھی محفوظ نہیں‘
برطانیہ سے بھاگا ہوا جنسی مجرم پاکستان سے گرفتار
گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟
حکام کے مطابق اسلام آباد کے علاقے کھنہ کی رہائشی زبیدہ بی بی نے تھانہ روات میں درخواست دی کہ ان کا بیٹا حمزہ جس کی عمر13 سال ہے، وہ رات کے وقت راولپنڈی میں واقع بحریہ ٹاؤن کے فیز سات میں قہوہ بیچتا تھا۔
ملزم کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ چند روز قبل ملزم سہیل ایاز نے ان کے بیٹے حمزہ کو اپنی گاڑی میں بیٹھایا اور اپنے ساتھ لے گیا، جہاں وہ اسے نشہ آور چیزیں کھلا کر اسے چار روز تک جنسی تشدد کا نشانہ بناتا رہا
https://www.bbc.com/urdu/pakistan-50387875?ocid=socialflow_twitter
Leave a comment