سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کیلئے درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کا جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بنچ سماعت کرے گا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ شہباز شریف نے اپنے بھائی کا نام مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کے حکومتی فیصلے کو چیلنج کیا ہے اور شہباز شریف کے وکلا کی استدعا پر آج سماعت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس سے پہلے لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر 18 نومبر تک سماعت ملتوی کی تھی۔یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے درخواست کو قابل سماعت قرار دیا تھا اور دو رکنی بنچ نے وفاقی حکومت کی درخواست کو ناقابل سماعت ہونے کے اعتراض کو مسترد کر دیا تھا۔واضح رہے کہ گذشتہ روز نیب اور وفاقی حکومت نے اپنا تحریری جواب لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرایا جس میں حکومت نے نواز شریف کی غیر مشروط طورپر بیرون ملک جانے کی مخالفت کی۔حکومت کی جانب سے جمع کروایا گیا جواب 45 جبکہ نیب کا جواب 4 صفحات پر مشتمل تھا۔وفاق نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ نواز شریف سزا یافتہ ہیں، انہیں بغیر سیکیورٹی بانڈز کے ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سیکیورٹی بانڈ کی شرط کو لاگو رکھا جائے۔ نواز شریف کے خلاف مختلف عدالتوں میں کیسز زیرِ سماعت ہیں،ان کا نام نیب کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا۔نیب نے اپنے جواب میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو اس درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں، ای سی ایل سے نام نکالنا وفاقی حکومت کا کام ہے، سزا یافتہ شخص کو ہر سماعت پر پیش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ وفاقی اداروں کے دفاتر پورے ملک میں ہوتے ہیں، آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کسی بھی وفاقی ادارے کے خلاف درخواست سن سکتی ہے۔
Leave a comment