بھارت کے شہر کولکتہ میں وزیراعظم نریندر مودی کی آمد کے خلاف 30 ہزار مشتعل مظاہرین نے احتجاجی ریلی نکالی اور متنازع شہریت ترمیمی قانون 2019 کے خلاف نعرے بازی کی۔بھارتی ٹی وی کے مطابق پولیس نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کی مذمت کے لیے کم از کم 30 ہزار مظاہرین نے کولکتہ کی سڑکوں پر احتجاج کیا اور انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی۔ریلی میں شریک ایک خاتون سریتا رائے نے کہا کہ جس کے لیے ہم لڑ رہے ہیں وہ بھارت کا مستقبل ہے۔ہجوم کے شرکا نے شہر کے ہوائی اڈے پر بھی احتجاج کیا اور نعرے بازی کی کہ ہم فاشزم کے خلاف ہیں۔کولکتہ ایئر پورٹ پر آمد کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کے گھر پہنچے۔واضح رہے کہ ممتا بینرجی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سخت ناقد ہیں۔علاوہ ازیں پولیس نے مظاہرین کو نریندر مودی کے پیچھے وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کے گھر جانے سے روک دیا۔بعد ازاں ممتا بینرجی نے ملاقات کے بارے میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے نریندر مودی سے ملک کے وسیع مفادات کے لیے’ شہریت ترمیمی قانون کو منسوخ کرنے کا کہا۔اس بیان کے بعد ممتا بینرجی ازخود سڑکوں پر احتجاج میں شامل ہوگئیں۔
Leave a comment