ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ، بھارتی ناظم الامور دفترخارجہ طلب

Written by:

پاکستان کی جانب سے کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی شدید مذمت کی گئی —فائل فوٹو: اے پی پی

دفتر خارجہ میں جنوبی ایشیا اور سارک کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) زاہد حفیظ نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے 11جنوری کو کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ اور گولہ باری پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ‘بھارتی ناظم الامور گورو اہلووالیا کو طلب کیا گیا اور پاکستان کی جانب سے کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی شدید مذمت کی ۔

مزیدپڑھیں: بھارتی فوج کی آزاد کشمیر میں بلااشتعال فائرنگ، ایک شہری جاں بحق

واضح رہے کہ بھارتی افواج نے ایل او سی کے کوٹ کوٹیرا اور کریلا سیکٹرز پر 11 جنوری کو بلا اشتعال فائرنگ کی جس سے تحصیل او ضلع کھوئی رٹی کے گاؤں چوکی کا رہائشی 24 سالہ محمد اشتیاق شہید ہوگیا تھا۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں خطے کے امن واستحکام کے لیے خطرہ ہیں اور یہ اسٹریٹجک غلط فہمی کا باعث ہوسکتی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا اور سارک نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے اور اس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور دیگر واقعات کی تحقیقات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی فورسز کو ہدایت کرے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر من و عن عمل کرے اور ایل او سی کے ساتھ ساتھ ورکنگ باؤنڈری پر امن کو برقرار رکھے۔

خیال رہے کہ بھارتی فورسز ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری کے اطراف میں آبادی کو آرٹلری فائرنگ، مارٹرز اور خودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزی سے 2 افراد جاں بحق

بھارتی فورسز کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف وزیاں 2017 سے جاری ہیں اور شہری آبادی کو اس طرح نشانہ بنانا نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ انسانی وقار، عالمی انسانی حقوق اور دیگر قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

قبل ازیں بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارتی پارلیمنٹ حکم دیتی ہے تو بھارتی فوج پاکستان کے کشمیر کے حصول کے لیے کارروائی کرے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘بھارتی آرمی چیف کا آزاد کشمیر میں فوجی کارروائی کا بیان معمول کی ہرزہ سرائی ہے اور وہ اپنے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ایسے بیان دے رہے ہیں’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘بھارتی آرمی چیف کا بیان اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے’۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک فوج، بھارت کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

مزیدپڑھیں: ننکانہ صاحب واقعے کو مذہبی رنگ دینا غلط ہے، دفتر خارجہ

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 26 دسمبر 2019 کو خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت اپنے داخلی مسائل اور صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد جموں وکشمیر میں کوئی واردات کرسکتا ہے جس سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی آگاہ کرچکا ہوں۔

بھارتی فوج نے 26 دسمبر کو ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 2 جوان شہید ہوگئے تھے جبکہ بھارت کے 3 فوجیوں کو بھی ہلاک کردیا گیا تھا۔

ایل او سی پر 19 دسمبر کو بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started