
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابات جیتنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ دیے اور متنازعہ شہریت قانون بھی منظور کیا لیکن عوام نے انہیں اور ان کی انتہا پسندی کو مسترد کر کے عام آدمی پارٹی کو چن لیا۔
نئی دہلی کی اسمبلی کے انتخابات میں وزیر اعلیٰ اروند کیجروال کی جماعت عام آدمی پارٹی نے اب تک 70 میں سے 57 سیٹیں حاصل کرلی ہیں۔
دہلی میں حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت کے لیے 36 سیٹیں درکار ہیں اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو عام آدمی پارٹی مسلسل تیسری بار دہلی میں حکومت بنائے گی۔
گزشتہ انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو 70 میں سے 67 سیٹیں ملی تھیں جبکہ انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی صرف 3 سیٹیں حاصل کرسکی تھی۔ اس سے قبل کانگریس دہلی پر مسلسل 15 سال حکومت کرتی رہی تھی۔
اروند کیجروال اور ان کی پارٹی نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگے تھے جبکہ بی جے پی دہلی کے مسائل سے زیادہ ملکی سطح کے مسائل اور اپنی کارکردگی کو دہراتی رہی۔
بی جے پی کو امید تھی کہ انہیں شہریت کے متنازعہ قانون کا فائدہ پہنچے گا لیکن الٹا یہ قانون ان کے گلے پڑ گیا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ قانون عام انتخابات میں بھی مودی اور ان کی جماعت کو لے ڈوبے گا۔
Leave a comment